20 اکتوبر 2010 - 20:30

ایسے حال میں جبکہ امام خامنہ ای کے فتنہ شکن فتوی کو عالم اسلام میں وسیع سطح پر سراہا جارہا ہے؛ کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے آیت اللہ سید محمد باقر مہری نے شیعیان اہل بیت (ع) کے خلاف تکفیری فتوؤں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اہل سنت کے علمائے دین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اہل تشیع کی تکفیر کو حرام قرار دیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کویت کے بزرگ شیعہ عالم اور شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے آیت اللہ سید محمد باقر مہری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "جو لوگ شیعیان اہل بیت (ع) پر شرک کا الزام لگاتے ہیں وہ مشرک ہیں؛ جو لوگ مذہب اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کو کافر سمجھتے ہیں وہ منحرف اور کافر ہیں اور جو لوگ شیعیان اہل بیت نبی (ص) کو اولاد متعہ قرار دیتے ہیں وہ اسلام، قرآن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دور ہیں۔ آیت اللہ سید محمد باقر مہری نے سنی مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیئے جانے کے حوالے سے شیعہ مراجع تقلید کے فتاوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہل سنت کے بزرگ علماء سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی فتوی دے کر اہل تشیع کی تکفیر کو حرام قرار دیں۔انھوں نے کہا: تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان ٹی وی چینلوں کی بندش کا پر زور مطالبہ کریں جو اختلاف و انتشار کا فتنہ پھیلارہے ہیں اور اہل تشیع کی توہین کرتے ہوئے مسلمانوں کی تکفیر کے مذموم عمل میں مصروف ہیں۔ انھوں نے اہل تشیع کی حمایت اور وہابیت کے انتہاپسندانہ عقائد کو فروغ دینے والے ٹی وی چینلوں کی بندش کے حوالے سے شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کے حالیہ موقف کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: شیخ الازہر ڈاکٹر احمدالطیب سے قبل، سابق شیخ الازہر شیخ محمود شلتوت اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے جنہوں نے اپنے تاریخی فتوی میں مذہب شیعہ کی پیروی کو جائز قرار دیا تھا اور یہ موقف حال ہی میں مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر علی جمعہ کے فتوی میں بھی دہرایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ ایام میں اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیئے جانے کے حوالے سے رہبر انقلاب اسلامی اور بزرگ مرجع تقلید حضرت امام آیت اللہ العظمی سید علی الحسینی الخامنہ ای کے فتنہ شکن فتوی کے جواب میں شیخ الازہر کی جانب سے پیروان اہل بیت (ع) کی تکفیر کی مذمت کے نتیجے میں نائل سیٹ (NileSat) نے فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دینے والے کئی وہابی سلفی سیٹلائٹ چینل بند کردیئے ہیں۔........../110